میٹریل میں چوری

 



میٹریل میں چوری

ہمارے معاشرے میں جو لوگ ایمانداری سے کام کرتے ہیں اور ہر ایک کے لئیے مخلص ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اُن سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ اُنکے ریٹس عام کنٹریکٹر حضرات سے کُچھ زیادہ ہوتے ہیں اور جو لوگ دو نمبریاں کرتے ہیں۔ میٹریل چوری کرتے ہیں انکی لوگ عزت بھی کرتے ہیں اور انکو کام بھی مل جاتے ہیں کیونکہ وہ کم ریٹ کوٹ کر کے بعد میں دو نمبری کرتے ہیں یا میٹریل میں چوری کرتے ہیں۔ہم لوگ کسی کو کنسٹرکشن کا کام دیتے ہوئے اسکی Capability دیکھنے کی بجائے اسکا ریٹ دیکھتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر ٹھیکیدار ریٹ کی کمی کی وجہ سے یا تو کام چھوڑ کر بھا گ جاتے ہیں یا پھر میٹریل میں دو نمبری کرتے ہیں (اِلا ماشاء اللہ) Ultimate نقصان اُس مالک کا ہوتا ہے جسکا گھر یا پلازہ بن رہا ہوتا ہے۔

یاد رکھیں مسلمان کے لئیے کسی کو بھی دھوکہ دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے۔ " جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔" اس لئیے نہ کسی کو دھوکہ دیں اور نہ کسی کے لئیے ایسے اسباب پیدا کریں کہ وہ آپکو دھوکہ دینے کی کوشش کرے۔

مالک کو چاہئیے کہ گھر کی تعمیر سے پہلے اچھے طریقے سے کنٹریکٹر حضرات کو پرکھ لے اور کسی قابل کنٹریکٹر کو کام دے جسکے پاس Qualified Engineers ہوں اور کنٹریکٹر کو چاہیئے کہ کام لینے کی خاطر کم ریٹ ہرگز Quote نہ کرے بلکہ کسی QS سے calculation کروا لے کہ پراجیکٹ پہ cost کتنی ہے پھر اس پہ مناسب پرافٹ رکھے اور ریٹ quote کرے تاکہ جو معاملات مالک سے طے ہوں ان میں دھوکہ دینے کی گنجائش نہ نکل سکے ورنہ تھوڑے سے نفع کی خاطر آخرت کی بربادی کا اندیشہ ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو رزقِ حلال عطا فرمائے۔ اور حرام کی لعنت سے محفوظ و مامون فرمائے اور محمدؐ و آلِؓ محمدؐ کا سچا و پکا غلام بنائے۔ آمین یا رب العالمین

 Engr Sardar Nayab 

03002469497

Comments

Popular Posts